لانگ مارچ: بہت کچھ کہہ سکتا ہوں، نہیں چاہتا ادارے کمزور ہوں: عمران خان

لاہور: پاکستان تحریک انصاف کے چیئر مین اور سابق وزیراعظم کی قیادت میں پی ٹی آئی کا حقیقی آزادی مارچ کا آغاز لبرٹی چوک سے ہوتوا عمران خان نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بہت کچھ کہہ سکتا ہوں، نہیں چاہتا ادارے کمزور ہوں۔

عمران خان مرکزی کنٹینر پر پہنچ گئے۔ حقیقی آزادی مارچ میں بڑی تعداد میں کارکن شریک ہیں۔ خواتین اور بچوں کی بھی بڑی تعداد بھی وہاں موجود ہے۔ اس موقع پر سکیورٹی کے سخت انتظامات ہیں۔

پہلے دن لانگ مارچ لاہور میں ہی رہے گا ۔ لبرٹی چوک سے اچھرہ، مزنگ،ایم او کالج، جنرل پوسٹ آفس چوک ،داتا دربارسے آزادی چوک پہنچے گا۔

عمران خان کا لبرٹی چوک میں کارکنوں سے خطاب

چیئرمین تحریک انصاف نے لاہور کے لبرٹی چوک میں ’حقیقی آزادی لانگ مارچ‘ کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اپنی 26سال کی سیاست کی جدوجہد میں یہ میں سب سے اہم سفر شروع کررہا ہوں، اب وقت آ گیا ہے کہ ہم اس ملک کی حقیقی آزادی کا سفر شروع کریں۔ میں تمام پاکستانیوں کو پیغام دے رہا ہوں میرا یہ مارچ سیاست، الیکشن یا ذاتی مفادات کے لیے نہیں بلکہ اس کا سرف ایک مقصد ہے کہ میں اپنی قوم کو آزاد کروں اور اس کو ایک آزاد ملک بناؤں، اس ملک کے فیصلے لندن یا واشنگٹن میں نہ ہوں، اس ملک کے فیصلے پاکستان میں ہوں اور پاکستانیوں کے لیے ہوں۔

سابق وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ہمیں کوئی یہ حکم نہ دے کہ ہم کسی اور کی جنگ میں شامل ہوں اور اپنے 80ہزار لوگوں کی کسی اور ملک کے لیے قربانی دیں، نہ کوئی ہمیں یہ کہے کہ اگر روس ہمیں سستا تیل دے رہا ہے اور میں اپنی قوم کو مہنگائی سے بچا سکتا ہوں تو کوئی ہمیں یہ حکم نہ کرے کہ ہندوستان تو روس سے سستا تیل لے سکتا ہے لیکن غلام پاکستانیوں کو اجازت نہیں، میں ایک آزاد ملک دیکھنا چاہتا ہوں۔ ہمارے لوگ آج پاکستان میں تماشا دیکھ رہے ہیں کہ قوم مہنگائی میں ڈوب رہی ہے، 50سال میں سب سے زیادہ مہنگائی اس امپورٹیڈ چوروں کی حکومت نے کی ہے لیکن اپنے 1100 ارب روپے کے چوری کے کیسز معاف کرا رہے ہیں اور ان کے اور ان کے سہولت کار اگر وہ یہ سمجھتے ہیں کہ ہم ان چوروں کو قبول کر لیں گے تو غور سے سن لیں کہ یہ قوم ہر قربانی دینے کے لیے تیار ہے۔

عمران خان نے کہا کہ اعظم سواتی نے آج پریس کانفرنس میں دو لوگوں کے نام لیے ہیں جنہوں نے ان پر تشدد کیا، انہوں نے اعظم کو ان کے گھر سے اٹھایا، ان کے پوتے پوتیوں کے سامنے تشدد کیا، اس کے بعد اعظم کو ان دونوں افراد کے سہولت کاروں کو پکڑایا گیا، اس کو ننگا کیا گیا، اس پر تشدد کیا گیا، اس سے پہلے شہباز گل کو اسی طرح اٹھا کر پولیس نے ان دونوں کے لوگوں کے حوالے کیا، انہوں نے شہباز ہر بھی تشدد کیا، اس کی تصویریں بنائیں جبکہ صحافی جمیل فاروقی کے ساتھ بھی یہی کیا۔ آرمی چیف جنرل باجوہ ا سے پوچھتا ہوں کراچی میں آئی ایس آئی کے سیکٹر کمانڈر نے جب بلاول بھٹو سے زیادتی کی اور بلاول نے اس کے خلاف بیان دیا تو آپ نے اسے ہٹا دیا، تو اب آپ ان دونوں کو بھی ہٹائیں، جنرل باجوہ یہ لوگ آپ کو بدنام کررہے ہیں۔

چیئرمین تحریک انصاف نے کہا کہ جب اعظم سواتی کو اٹھایا گیا تو دنیا بھر کے اخباروں میں لکھا گیا کہ پاکستان کے 75سالہ سینیٹر کو اٹھایا اور اس پر تشدد کیا کیونکہ اس نے فوج کے خلاف ٹوئٹ کی، ساری دنیا میں پاکستان کی بے عزتی ہوئی، ہماری جمہوریت کا مذاق اڑا، فوج کو برا بھلا کہا گیا، فوج فائدہ نہیں نقصان پہنچا، یہ ہماری فوج ہے، ہمارا ملک ہے اور ہم چاہتے ہیں کہ ہمارا ملک مضبوط ہو، یہ حرکتیں کر کے ادارتے مضبوط نہیں ہوتے بلکہ انہیں نقصان پہنچتا ہے۔ ڈی جی آئی ایس آئی آپ نے جو کل پریس کانفرنس کی، آپ نے کہا کہ میں غیرسیاسی ہوں، کہا کہ ہم سیاست نہیں کرتے، ڈی جی آئی ایس آئی ایسی سیاست والی پریس کانفرنس تو میں نے شیخ رشید کو بھی کرتے نہیں دیکھا، آپ اس پریس کانفرنس میں غیرجانبدار نہیں رہے کیونکہ آپ نے چوروں کے ٹولے کے خلاف تو بات ہی نہیں کی، سارا نشانہ عمران خان تھا۔

انہوں نے کہا کہ ڈی جی آئی ایس آئی کان کھول کر سن لو، میں جو چیزیں جانتا ہوں میں اپنے ملک اور ادارے کی خاطر چپ ہوں کیونکہ میں اپنے ملک کو نقصان نہیں پہنچانا چاہتا، میں نواز شریف کی طرح بھگوڑا نہیں ہوں جو یہاں دم دبا کر بیٹھا رہے اور لندن جا کر فوج کو برا بھلا کہے، میں نے اس ملک سے جانا نہیں ہے، میرا جینا مرنا اسی ملک میں ہے۔ میں وہ پاکستان دیکھنا چاہتا ہوں جو ایک آزاد ملک ہو اور آزاد ملک کے لیے ایک طاقتور فوج ضروری ہے، تو ڈی جی آئی ایس آئی صاحب ہماری تعمیری تنقید ہے جو ہم آپ کی بہتری کے لیے کرتے ہیں، ہم اپنے ملک کو نقصان نہیں پہنچانا چاہتے۔

عمران خان نے کہا کہ میں بہت کچھ کہہ سکتا ہوں، آپ کے جواب دے سکتا ہوں لیکن میں یہ نہیں چاہتا کہ میرے ملک کے ادارے کمزور ہوں اور میرے اس سفر کا صرف ایک مقصد ہے کہ ہم اس ملک میں حقیقی آزادی چاہتے ہیں۔ ڈی جی آئی ایس آئی صاحب میں نے آج تک کوئی غیرآئینی چیز نہیں کی، میں صاف اور شفاف الیکشن چاہتا ہوں اور صاف اور شفاف الیکشن میں میرے عوام فیصلہ کرے کہ اس ملک کی قیادت کون کرے گا۔ ہم آئین اور قانون کے مطابق چلیں گے، سپریم کورٹ نے ہمیں جن علاقوں میں مارچ کی اجازت دی ہے، ہم صرف ان علاقوں میں جائیں گے، کوئی قانون نہیں توڑیں گے، ریڈ زون میں نہیں جائیں گے۔ میں سپریم کورٹ سے کہنا چاہتا ہوں کہ 25مئی کو آپ نے ہمارے جمہوری حق کا تحفظ نہیں کیا، ہمیں مارا گیا، لوگوں کو اٹھایا گیا، مجھے افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ جو ہمارا بنیادی حق تھا، اس کو تحفظ نہیں دیا گیا۔

انہوں نے لانگ مارچ کے سفر کا اعلان کرتے ہوئے نوجوانوں کو تلقین کی کہ وہ کسی بھی قسم کا انتشار نہ ہونے دیں کیونکہ تحریک انصاف وہ جماعت ہے جو سب انسانوں کو لے کر چلتی ہے۔

عمران خان کے خطاب کے بعد سینیٹر فیصل جاوید خان نے لانگ مارچ کے شرکا سے حلف بھی لیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں